Posts

Wasf e Rukh Unka Kiy krty Hain

Image
وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں  اُن کی ہم مَدْح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں ماہِ شق گَشْتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رَجعت دیکھو مصطفیٰ پیارے کی قدرت دیکھو کیسے اعجاز ہوا کرتے ہیں تُو ہے خورشیدِ رسالت پیارے چُھپ گئے تیری ضِیا میں تارے اَنبیا اور ہیں سب مہ پارے تجھ سے ہی نُور لیا کرتے ہیں اے بَلابے خِرَدیِ کفّار رکھتے ہیں ایسے کے حق میں اِنکار کہ گواہی ہو گر اُس کو دَرکار بے زباں بول اُٹھا کرتے ہیں اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم پیڑ سجدے میں گِرا کرتے ہیں رِفعت ذِکر ہے تیرا حصّہ دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا مرغِ فردَوس پس اَز حمدِ خدا تیری ہی مَدْح و ثنا کرتے ہیں اُنگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری جن سے دریائے کرم ہیں جاری جوش پر آتی ہے جب غم خواری تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد اِسی در پر شترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں آستیں رحمتِ عالم الٹے کمرِ پاک پہ دامن باندھے گِرنے والوں کو چَہِ دوزخ سے صاف الگ کِھینچ لیا کرتے ہیں جب صبا آتی ہے طیبہ سے ا...

Nabi Sarwar e Har Rasool o Wali Hai

Image
نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے نبی راز دارِ مَعَ اللہ لِی ہے وہ نامی کہ نامِ خُدا نام تیرا رؤف و رحیم و علیم و علی ہے ہے بےتاب جس کے لئے عرشِ اعظم وہ اس رہروِ لامکاں کی گلی ہے نکیرین کرتے ہیں تعظیم میری فِدا ہو کے تجھ پر یہ عزّت ملی ہے طلاطم ہے کشتی پہ طوفانِ غم کا یہ کیسی ہوائے مخالف چلی ہے نہ کیوں کر کہوں یا حبیبی اَغِثْنِی اِسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے صبا ہے مجھے صر صرِ دشتِ طیبہ اِسی سے کلی میرے دِل کی کِھلی ہے تِرے چاروں ہمدم ہیں یک جان یک دِل ابوبکر، فاروق، عثماں، علی ہے خدا نے کیا تجھ کو آگاہ سب سے دو عالم میں جو کچھ خفی و جلی ہے کروں عرض کیا تجھ سے اے عالِم السِّر کہ تجھ پر مری حالتِ دِل کُھلی ہے تمنّا ہے فرمائیے روزِ محشر یہ تیری رِہائی کی چِٹھی مِلی ہے جو مقصد زِیارت کا بر آئے پھر تو نہ کچھ قصد کیجئے یہ قصدِ دِلی ہے تِرے در کا دَرباں ہے جبریلِ اعظم تِرا مدح خواں ہر نبی و ولی ہے شفاعت کرے حشر میں جو رضاؔ کی سِوا تیرے کس کو یہ قُدرت مِلی ہے

Sayyed Ne Karbala Main Waady Nibha Diye Hain

Image
سید نے کربلا میں وعدے نبھا دیئے ہیں دینِ محمدی کے گلشن کھِلا دیئے ہیں دینِ نبی پہ واری اکبر نے بھی نے بھی جوانی عباس نے بھی اپنے بازو کٹا دیئے ہیں زینب کے باغ میں دو پھول تھے مہکتے زینب نے وہ بھی راہِ خدا دے دیئے ہیں بولے حسین مولا تیری رضا کی خاطر اک ایک کر کے میں نے ہیرے لٹا دیئے ہیں زہرہ کے ناز پالے،پھولوں پہ سونے والے کربل کی خاک میں وہ ہیرے لٹا دیئے ہیں بخشش ہے اس کی لازم سید کے غم میں حافظ دو چار آنسو رو کر جس نے بہا دیئے ہیں